Sunday, 16 October 2022

تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں

 گیت


نشاں بھی کوئی نہ چھوڑا کہ دل کو سمجھائیں

تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں


او جانے والے یہ دل تجھ سے بد گماں بھی نہیں

لگی ہے آگ نشیمن میں اور دھواں بھی نہیں

یہی نصیب میں لکھا تھا گُھٹ کہ مر جائیں

تِری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں


سنائیں حال کسے جب وہ رازداں نہ ملا

خوشی ملی تو بہاروں کا وہ سماں نہ ملا

یہی تھی ایک تمنا کہ تجھ کو اپنائیں

تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں


اجڑ گئی ہے تمنائیں تیرے جانے سے

گلہ خدا سے کریں یا کریں زمانے سے

غم جدائی بتا آج کس سے ٹکرائیں

تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں


ضیا جالندھری

No comments:

Post a Comment