گیت
نشاں بھی کوئی نہ چھوڑا کہ دل کو سمجھائیں
تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں
او جانے والے یہ دل تجھ سے بد گماں بھی نہیں
لگی ہے آگ نشیمن میں اور دھواں بھی نہیں
یہی نصیب میں لکھا تھا گُھٹ کہ مر جائیں
تِری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں
سنائیں حال کسے جب وہ رازداں نہ ملا
خوشی ملی تو بہاروں کا وہ سماں نہ ملا
یہی تھی ایک تمنا کہ تجھ کو اپنائیں
تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں
اجڑ گئی ہے تمنائیں تیرے جانے سے
گلہ خدا سے کریں یا کریں زمانے سے
غم جدائی بتا آج کس سے ٹکرائیں
تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں
ضیا جالندھری
No comments:
Post a Comment