گیت
جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں
ان کا بھی کہیں مجھ سا ہی انجام نہ ہو
ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو
سر رکھ کے میرے شانے پہ بھی
اک گیت کسی نے گایا تھا
وہ گیت میرے جیون بھر کی
امیدوں کا سرمایا تھا
اب پیار کی اُلجھی راہوں میں
وہ گیت میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں
جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں
سائے کی طلب کرنے والو
دیوار سے سر ٹکراؤ گے
میری طرح شہر کی گلیوں میں
تم دیوانہ کہلاؤ گے
میں خوشیاں ڈھونڈنے نکلا تھا
اب ہر دم آہیں بھرتا ہوں
جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں
ان کا بھی کہیں مجھ سا ہی انجام نہ ہو
ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو
مسرور انور
No comments:
Post a Comment