Monday, 17 October 2022

ہمارا یہ تم کو سلام آخری ہے

ہمارا یہ تم کو سلام آخری ہے  

سنو آج تم سے کلام آخری ہے

اگر ہو سکے تو بھلا دینا ہم کو

یہ ایک چھوٹا سا کام آخری ہے

ابھی آرزؤں کے صحرا ہیں پیاسے 

مگر آنسوؤں کا یہ جام آخری ہے

تیری بے وفائی کا شکوہ نہیں ہے 

یہی تو وفاؤں کا انعام آخری ہے

مریضِ محبت کے اے چارہ سازو

تمہارے شہر میں یہ شام آخری ہے

ذرا دیر ٹھہرو قضا کے فرشتو 

لبوں پہ ہمارے پیام آخری ہے

کوئی مل سکے گا نہ حسرت کے جیسا 

تیری اداؤں کا یہ غلام آخری ہے


حسرت جے پوری

No comments:

Post a Comment