Monday, 17 October 2022

جانے کہاں گئے وہ دن

 گیت


جانے کہاں گئے وہ دن

کہتے تھے تیری راہ میں

نظروں کو ہم بچھائیں گے

چاہے کہیں بھی تم رہو

چاہیں گے تم کو عمر بھر

تم کو نہ بھول پائیں گے


میرے قدم جہاں پڑے

سجدے کیے تھے یار نے

مجھ کو رلا رلا دیا 

جاتی ہوئی بہار نے


اپنی نظر میں آج کل 

دن بھی اندھیری رات ہے

سایہ ہی اپنے ساتھ تھا

سایہ ہی اپنے ساتھ ہے


کل کھیل میں ہم ہوں نہ ہوں

گردش میں تارے رہیں گے سدا

بھولو گے تم، بھولیں گے وہ

پر ہم تمہارے رہیں گے سدا

رہیں گے یہیں اپنے نشاں

اس کے سوا جانا کہاں


جی چاہے جب ہم کو آواز دو

ہم ہیں وہیں ہم تھے جہاں

اپنے یہی دونوں جہاں

اس کے سوا جانا کہاں


حسرت جے پوری

No comments:

Post a Comment