گیت
جانے کہاں گئے وہ دن
کہتے تھے تیری راہ میں
نظروں کو ہم بچھائیں گے
چاہے کہیں بھی تم رہو
چاہیں گے تم کو عمر بھر
تم کو نہ بھول پائیں گے
میرے قدم جہاں پڑے
سجدے کیے تھے یار نے
مجھ کو رلا رلا دیا
جاتی ہوئی بہار نے
اپنی نظر میں آج کل
دن بھی اندھیری رات ہے
سایہ ہی اپنے ساتھ تھا
سایہ ہی اپنے ساتھ ہے
کل کھیل میں ہم ہوں نہ ہوں
گردش میں تارے رہیں گے سدا
بھولو گے تم، بھولیں گے وہ
پر ہم تمہارے رہیں گے سدا
رہیں گے یہیں اپنے نشاں
اس کے سوا جانا کہاں
جی چاہے جب ہم کو آواز دو
ہم ہیں وہیں ہم تھے جہاں
اپنے یہی دونوں جہاں
اس کے سوا جانا کہاں
حسرت جے پوری
No comments:
Post a Comment