ہمارا یہ تم کو سلام آخری ہے
سنو آج تم سے کلام آخری ہے
اگر ہو سکے تو بھلا دینا ہم کو
یہ ایک چھوٹا سا کام آخری ہے
ابھی آرزؤں کے صحرا ہیں پیاسے
مگر آنسوؤں کا یہ جام آخری ہے
تیری بے وفائی کا شکوہ نہیں ہے
یہی تو وفاؤں کا انعام آخری ہے
مریضِ محبت کے اے چارہ سازو
تمہارے شہر میں یہ شام آخری ہے
ذرا دیر ٹھہرو قضا کے فرشتو
لبوں پہ ہمارے پیام آخری ہے
کوئی مل سکے گا نہ حسرت کے جیسا
تیری اداؤں کا یہ غلام آخری ہے
حسرت جے پوری
No comments:
Post a Comment