سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے
دل رنگ گلستان تمنا لیے ہوئے
ہے آہ درد و سوز کی دنیا لیے ہوئے
طوفان اشک خون ہے گریہ لیے ہوئے
اک کشتۂ فراق کی تربت پہ نوحہ گر
داغ جگر میں شمع تمنا لیے ہوئے
میں اک طرف ہوں شکل خزاں پائمال یاس
اک سمت وہ بہار کا جلوہ لیے ہوئے
جانا سنبھل کے اے دل بے تاب بزم میں
ہے چشم ناز محشر غم زا لیے ہوئے
سوزاں نہ یہ چمن ہو مِرے نور آہ سے
او گلشن جمال کا جلوہ لیے ہوئے
مجنوں سے تو حقیقت صحرائے نجد پوچھ
ہے ذرہ ذرہ جلوۂ لیلیٰ لیے ہوئے
عشق جنوں نواز رہا بزم ناز میں
اک اضطراب و شوق کی دنیا لیے ہوئے
میری تو ہر نگاہ ہے وقف عبودیت
وہ ہر ادا میں حسن کلیسا لیے ہوئے
مرہم سے بے نیاز ہے پنہاں یہ زخم دل
کیا کیا فسوں ہے چشم دل آرا لیے ہوئے
پنہاں بریلوی
رابعہ پنہاں
No comments:
Post a Comment