Monday, 17 October 2022

اپنی آنکھوں سے کوئی آج دعا کر دیکھیں

اپنی آنکھوں سے کوئی آج دعا کر دیکھیں

لب کو سینے کی صدا آج سنا کر دیکھیں

نہر خاموش بھلا کیوں ہے بہتے بہتے

اپنے خوایش کے ہی پتھر کو ڈُبا کر دیکھیں

دلِ بے تاب کی دنیا کے گلی کوچے بہت

دل کے خانے میں انہیں پھر سے بُلا کر دیکھیں

رب سے ملنا ہے تو کیا موت ضروری ہے سعد

سر جُھکا، ہاتھ اُٹھا، رب کو بُلا کر دیکھیں


سعداللہ سعدی

No comments:

Post a Comment