اپنی آنکھوں سے کوئی آج دعا کر دیکھیں
لب کو سینے کی صدا آج سنا کر دیکھیں
نہر خاموش بھلا کیوں ہے بہتے بہتے
اپنے خوایش کے ہی پتھر کو ڈُبا کر دیکھیں
دلِ بے تاب کی دنیا کے گلی کوچے بہت
دل کے خانے میں انہیں پھر سے بُلا کر دیکھیں
رب سے ملنا ہے تو کیا موت ضروری ہے سعد
سر جُھکا، ہاتھ اُٹھا، رب کو بُلا کر دیکھیں
سعداللہ سعدی
No comments:
Post a Comment