Monday, 17 October 2022

دل کی ضد تھی کہ اسے بھی تو ستایا جاتا

 دل کی ضد تھی کہ اسے بھی تو ستایا جاتا

وہ جو ملتا تو اسے حال سنایا جاتا

بارے تکمیلِ جنوں عشق کے ویرانوں میں

ہوں جہاں اس سے تو واپس نہیں آیا جاتا

پا شکستہ ہوں کچھ ایسا کہ سر پھوڑنے کو 

کسی دیوار تلک بھی نہیں جایا جاتا

تشنہ امید لیے سوئے فلک تکتا ہوں 

میرے گھر سے نہیں آلام کا سایا جاتا

ضعف و معذوری نے اس درجہ کیا ناکارہ

اب تو محبوب کے در تک نہیں جایا جاتا

شبِ خاموش کے لہجے ہی سے گھبراتا ہوں

بارِ افسردگی کس طور اٹھایا جاتا

کتنی صدیوں کا ہے جو بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں 

دشتِ وحشت کا نہیں حال سنایا جاتا

گرچہ تخفیفِ گنہ سُوجھ رہی ہے مجھ کو

سُوئے مے خانہ مگر اب نہیں جایا جاتا

آبرو ہی کا تقاضہ ہے یہ محبوبِ حزیں 

کبھی مقتل میں نہیں جسم بچایا جاتا


محبوب خزاں

No comments:

Post a Comment