Sunday, 16 October 2022

ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا

 فلمی گیت


ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا

فاصلہ پیار میں دونوں سے مٹایا نہ گہا


وہ گھڑی یاد ہے جب تم سے ملاقات ہوئی

اک اشارہ ہوا دو ہاتھ بڑھے بات ہوئی

دیکھتے دیکھتے دن ڈھل گیا اور رات ہوئی

وہ سماں آج تلک دل سے بھلایا نہ گیا

ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا


کیا خبر تھی کہ ملے ہیں تو بچھڑنے کے لیے

قسمتیں اپنی بنائی ہیں بگڑنے کے لیے

پیار کا باغ لگایا تھا اجڑنے کے لیے

آس طرح اجڑا کہ پھر ہم سے بسایا نہ گیا

ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا


یاد رہ جاتی اور وقت گزر جاتا ہے

پھول کھلتا بھی ہے اور کھل کے بکھر جاتا ہے

سب چلے جاتے ہیں تب درد جگر جاتا ہے

داغ جو تُو نے دیا دل سے مٹایا نہ گیا

ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا


راجندر کرشن

No comments:

Post a Comment