فلمی گیت
ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا
فاصلہ پیار میں دونوں سے مٹایا نہ گہا
وہ گھڑی یاد ہے جب تم سے ملاقات ہوئی
اک اشارہ ہوا دو ہاتھ بڑھے بات ہوئی
دیکھتے دیکھتے دن ڈھل گیا اور رات ہوئی
وہ سماں آج تلک دل سے بھلایا نہ گیا
ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا
کیا خبر تھی کہ ملے ہیں تو بچھڑنے کے لیے
قسمتیں اپنی بنائی ہیں بگڑنے کے لیے
پیار کا باغ لگایا تھا اجڑنے کے لیے
آس طرح اجڑا کہ پھر ہم سے بسایا نہ گیا
ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا
یاد رہ جاتی اور وقت گزر جاتا ہے
پھول کھلتا بھی ہے اور کھل کے بکھر جاتا ہے
سب چلے جاتے ہیں تب درد جگر جاتا ہے
داغ جو تُو نے دیا دل سے مٹایا نہ گیا
ہم سے آیا نہ گیا تم سے بلایا نہ گیا
راجندر کرشن
No comments:
Post a Comment