کسی کی دید کا اک مہرباں لمحہ
کسی کے نام لکھے رت جگوں میں
ٹمٹماتا آس کا جگنو
کسی جادو بھرے اک لمس کی خواہش
کسی مخمور لہجے کی کوئی مدھم سی سرگوشی
تھکن کے آبلوں پر اک زرا سا پیار کا مرہم
بڑی مشکل سے ان خوابوں سبز کے
نخلِ سبز کو جڑ سے اکھاڑا ہے
بڑی مشکل سے اس کے نام پر
سینے میں اٹھتے درد کو بڑھنے سے روکا ہے
بڑی مشکل سے ماضی کی سلگتی راکھ میں موجود
چنگاری بجھائی ہے
بڑی مشکل سے اس کو بھول جانے کی قسم
دل نے اٹھائی ہے
محبت اب مجھے آواز مت دینا
مجھے آواز مت دینا
مجھے آواز مت دینا
بشریٰ فرخ
No comments:
Post a Comment