Sunday, 16 October 2022

محبت اب مجھے آواز مت دینا

 کسی کی دید کا اک مہرباں لمحہ

کسی کے نام لکھے رت جگوں میں

ٹمٹماتا آس کا جگنو

کسی جادو بھرے اک لمس کی خواہش

کسی مخمور لہجے کی کوئی مدھم سی سرگوشی

تھکن کے آبلوں پر اک زرا سا پیار کا مرہم

بڑی مشکل سے ان خوابوں سبز کے 

نخلِ سبز کو جڑ سے اکھاڑا ہے

بڑی مشکل سے اس کے نام پر 

سینے میں اٹھتے درد کو بڑھنے سے روکا ہے

بڑی مشکل سے ماضی کی سلگتی راکھ میں موجود 

چنگاری بجھائی ہے

بڑی مشکل سے اس کو بھول جانے کی قسم

دل نے اٹھائی ہے

محبت اب مجھے آواز مت دینا

مجھے آواز مت دینا

مجھے آواز مت دینا


بشریٰ فرخ

No comments:

Post a Comment