Sunday, 17 October 2021

اداسی آ رہی ہے چپکے چپکے

اداسی آ رہی ہے چپکے چپکے

خموشی چھا رہی ہے چپکے چپکے

مِرے دل میں دبے کچھ قہقہوں کو

خموشی کھا رہی ہے چپکے چپکے

مِری حالت پہ کچھ دن سے ہنسی اب

تمہیں بھی آ رہی ہے چپکے چپکے

غموں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے

خوشی بھی جا رہی ہے چپکے چپکے

اُجڑتا جا رہا ہے دل کا گُلشن

کلی مُرجھا رہی ہے چپکے چپکے


سوہل بریلوی

No comments:

Post a Comment