میں نے جان جس پہ نثار کی، مِرا دل دکھا کے چلا گیا
میں نے یاد اس کی سمیٹ لی، وہ مجھے بھلا کے چلا گیا
میں تھا اک سلگتا ہوا بدن، مجھے یاد ہے کہ مِرا صنم
مِرے پاس آیا چھوا مجھے، مجھے گل بنا کے چلا گیا
نہ اسے تھیں مجھ سے محبتیں، نہ میں اس کے دل کے قریب تھا
مجھے قتل کرنے کی آس تھی، سو گلے لگا کے چلا گیا
مِری عادتوں کو بگاڑ کر، مجھے گھپ اندھیرے میں ڈال کر
تھا چراغ جس نے کیا مجھے، وہ مجھے بجھا کے چلا گیا
داؤد سید
No comments:
Post a Comment