خزاں کے دور میں کر اعتبار لفظوں کا
بھرم رکھے گی کسی دن بہار لفظوں کا
زباں کا حسن، قلم کا کمال بکنے لگا
چمک رہا ہے بہت کاروبار لفظوں کا
مِرے یقین کے اوراق بے نشاں نہ رہیں
کچھ اس طرح سے ذخیرہ اتار لفظوں کا
سماعتوں میں سلگتا ہے کس لیے بارود
اگا ہوا ہے سبھی انتشار لفظوں کا
بدن کے واسطے کافی ہے ضربتِ شمشیر
برائے روح ضروری ہے وار لفظوں کا
لکھوں گا ایک صحیفہ تِری وفاؤں پر
کبھی ملا جو مجھے اختیار لفظوں کا
فضا میں پھیلتا جاتا ہے جبر۔خاموشی
کرے گا کون بھلا اب شمار لفظوں کا
میں ایک روز بتاؤں گا دل کی بات اسے
زباں سے بوجھ اتاروں گا چار لفظوں کا
پھٹا ہوا ہے گریبانِ آبرو عباس
نجانے کون ہوا ہے شکار لفظوں کا
حیدر عباس
No comments:
Post a Comment