میں خود کو کھونے کے وسوسوں سے ڈرا ہُوا ہوں
بڑی دعاؤں کے بعد خود کو عطا ہوا ہوں
ہمیں پتا ہے یہ دن ہے قُربت کا آخری دن
وہ رو رہی ہے میں اس کے سینے لگا ہوا ہوں
میاں! اداسی سے میری بچپن کی دوستی ہے
میں اس کے ہاتھوں میں ہاتھ لے کر بڑا ہوا ہوں
ابھی تو قاتل کو میں اکیلا ہی جانتا ہوں
ابھی کسی کو پتا نہیں میں مرا ہوا ہوں
وہ شاہ زادی کہ اک مکمل غزل ہے، سید
میں ایک نوحہ ہوں آسماں پر لکھا ہوا ہوں
داؤد سید
No comments:
Post a Comment