Sunday, 10 October 2021

بس وہی شخص تو مجھ کو درکار تھا

 بس وہی شخص تو مجھ کو درکار تھا

جس کا ملنا ہی اک کارِ دشوار تھا

پوچھتے ہیں سبھی کیا مجھے پیار تھا

ہاں مجھے پیار ہے ہاں مجھے پیار تھا

روپ اس کا جدا اک زمانہ فدا

کیا بتاؤں کہ کیسا وہ دلدار تھا

اس کی آنکھوں میں اقرار کی تھی چمک

اس کے ہونٹوں پہ حالانکہ انکار تھا

میری ہر بات چپ چاپ سنتا گیا

کیا خبر متفق تھا کہ بے زار تھا

میں سمجھتی رہی پیار کو زندگی

اور اس کے لیے کار بے کار تھا

خود کو ساگر بنایا تھا اس کے لیے

اور وہ تھا کہ پہلے سے سرشار تھا

میری پلکوں پہ پھر جھلملانے لگا

وہ ستارہ کبھی میرا غمخوار تھا

بات بے بات مجھ سے الجھنے لگا

کل تلک وہ جو میرا پرستار تھا

اشک تھے رات تھی اور بس یاد تھی

میرا زادِ سفر ہجر آزار تھا

ہر صدا بے اثر لوٹ کر آ گئی

جیسے وہ شخص تو کوئی دیوار تھا

بے کفن تھا جنازہ مرے خواب کا

ایسے اجڑا مرے دل کا دربار تھا

چھوڑئیے آپ یونہی پریشاں ہوئے

کچھ نیا تو نہیں میرے سرکار تھا

تو پشیماں نہ ہو میرے قاتل صنم

یہ گلہ تو نہیں یہ تو اظہار تھا

آج بھی اس کی ہی منتظر ہے غزل

جو بھی جیسا بھی ہے وہ مِرا پیار تھا


رقیہ غزل

No comments:

Post a Comment