ویرانی کا لے کر یہ کوئی ماپ مَری ہے
ڈھولک کی بہت دور کہیں تھاپ مری ہے
اس خواب کی تعبیر تھی گریہ،۔ سو ہنسا میں
ہنسنے سے وہ تعبیر بھی چُپ چاپ مری ہے
تُو آنکھوں میں دِکھتا تھا سو رویا ہوں میں اب اور
تب جا کے یہ آنکھوں سے تری چھاپ مری ہے
میں جسم میں گونجوں سے بہت تنگ تھا میں نے
اک چیخ کو مارا ہے،۔ اور اک آپ مری ہے
ہونٹوں پہ ہنسی جُزوی ہے میں خوش تو نہیں ہوں
یہ لاوہ تو زندہ ہے،۔ فقط بھاپ مری ہے
طلحہ رحمان شاہ
No comments:
Post a Comment