اک خوشی باعثِ تاخیر پڑی رہتی ہے
جیسے بنجر کوئی جاگیر پڑی رہتی ہے
اول اول تِری پائل کی چھنک ہوتی تھی
اب جہاں درد کی زنجیر پڑی رہتی ہے
میرے کمرے میں خدا رہتا ہے، میں رہتا ہوں
تیسری آپ کی تصویر پڑی رہتی ہے
سسکیاں لوٹ کے خیموں کو چلی جاتی ہیں
بے ردا آیتِ تطہیر پڑی رہتی ہے
ہم کو جھکنے نہیں دیتی کبھی دستارِ علیؑ
پاؤں کے پاؤں میں تقدیر پڑی رہتی ہے
آسماں والا مِرے دل کا مکیں ہے سید
اور بیاباں میں مِری ہیر پڑی رہتی ہے
داؤد سید
No comments:
Post a Comment