میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کر
ایک ساتھ کئی سال جی سکتا ہوں
اور گا سکتا ہوں
آج پھر جینے کی تمنا ہے
گو کہ میں نے پوری زندگی اکیلے کاٹ دی ہے
مگر میں نے ہمیشہ سراہا ہے
جب دو لوگ ہاتھ تھام کر کہیں جا رہے ہوں
مگر زندگی سے کبھی کبھی خوف بھی آتا ہے
اس دوڑ میں
عین ممکن ہے میں بھول جاؤں
جانے کیا تُو نے کہی
جانے کیا میں نے سنی بات کچھ بن ہی گئی
مگر میں تمہیں زندہ رکھوں گا
ایک ناول میں
جسے میں شاید اگلے کچھ سالوں میں لکھ لوں
ایک نظم میں
جس کی خاطر میں نے اور بھی نظمیں لکھی ہیں
مگر تمہیں میرے چہرے پر کوئی پڑھ نہیں پائے گا
وقت کا کوئی بھروسہ نہیں
وقت کے سیلاب میں کتنے نایاب چہرے بہہ گئے
کتنے مکانات کھنڈر ہوئے
عین ممکن ہے تمہارے نام کی تختی وقت بہا لے جائے
اور میں گم ہو جاؤں کسی اجنبی شہر میں
تم مگر زندہ رہو گی
ان سب لوک گیتوں میں جنہیں مستقبل میں گایا جائے گا
عالمی دنوں میں
یا جب میرے ناول کے نئے ایڈیشن نکلا کریں گے
تنویر حسین
No comments:
Post a Comment