Friday, 3 March 2023

میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کر

 میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کر 

ایک ساتھ کئی سال جی سکتا ہوں

اور گا سکتا ہوں 

آج پھر جینے کی تمنا ہے

گو کہ میں نے پوری زندگی اکیلے کاٹ دی ہے

مگر میں نے ہمیشہ سراہا ہے 

جب دو لوگ ہاتھ تھام کر کہیں جا رہے ہوں

مگر زندگی سے کبھی کبھی خوف بھی آتا ہے

اس دوڑ میں

عین ممکن ہے میں بھول جاؤں 

جانے کیا تُو نے کہی 

جانے کیا میں نے سنی بات کچھ بن ہی گئی

مگر میں تمہیں زندہ رکھوں گا

ایک ناول میں

جسے میں شاید اگلے کچھ سالوں میں لکھ لوں

ایک نظم میں

 جس کی خاطر میں نے اور بھی نظمیں لکھی ہیں

مگر تمہیں میرے چہرے پر کوئی پڑھ نہیں پائے گا

وقت کا کوئی بھروسہ نہیں

وقت کے سیلاب میں کتنے نایاب چہرے بہہ گئے

کتنے مکانات کھنڈر ہوئے

عین ممکن ہے تمہارے نام کی تختی وقت بہا لے جائے

اور میں گم ہو جاؤں کسی اجنبی شہر میں

تم مگر زندہ رہو گی 

ان سب لوک گیتوں میں جنہیں مستقبل میں گایا جائے گا

عالمی دنوں میں

یا جب میرے ناول کے نئے ایڈیشن نکلا کریں گے


تنویر حسین

No comments:

Post a Comment