Friday, 3 March 2023

حساب کرنے کی کوششوں میں ہم اس کی باتوں میں آ گئے ہیں

 حساب کرنے کی کوششوں میں ہم اس کی باتوں میں آ گئے ہیں 

نئے طلب کردہ سب خسارے پرانے کھاتوں میں آ گئے ہیں

شکستگی کے عمل سے واقف نہیں ہیں پہلے بھی اگلی نسلیں 

اور اب تو مٹی سے بننے والے کھلونے دھاتوں میں آ گئے ہیں 

گریز کرتی ہوئی یہ ٹہنی ابھی جو خود میں سمٹ رہی تھی 

ذرا سی کھینچی ہے اپنی جانب  تو پھول ہاتھوں میں آ گئے ہیں

بچی نہیں ہے کسی بھی پیشے میں وضعداری کی پاسداری

بڑے بڑے نام چھوٹی چھوٹی سی وارداتوں میں آ گئے ہیں 

ہم ابر پارے دھنک کی زد میں کچھ ایسے آئے کہ ہائے ہائے 

ہوئے ہیں دو چار اک دو  رنگوں سے اور ساتوں میں آ گئے ہیں

سخن سخن میں یہ کس کے ہونٹوں کا زنگ زائل ہوا ہے اظہر 

ورق بیاضوں کے کھل گئے ہیں قلم دواتوں میں آ گئے ہیں


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment