Friday, 3 March 2023

صداؤں کی آنکھوں میں پانی نہیں ہے

 صداؤں کی آنکھوں میں پانی نہیں ہے

(وحشتِ آب کی نذر)

ہر پل یہاں ایک خوشبو مہکتی تھی

اور پھول گلیوں میں ہنستے تھے

تانبے کے جسموں میں سونے کی روحیں تھیں

سونے کی روحوں کی آنکھوں میں

ریشم کے خوابوں کا ڈیرہ تھا

اور اس تھڑے پر

تھے گاؤں کے بوڑھے

زمیں کی محبت میں جکڑے ہوئے

اور گزرے ہوئے وقت کی ڈور ہاتھوں میں تھامے

کہیں وسط میں ایک مندر تھا

گھنٹی کی آواز میں شانتی تھی

ادھر ایک مسجد تھی آباد تھی

کچھ برس اور حقہ سلگتا

دھویں کو اگلتا تو کیا حرج تھا؟

کچھ برس اور مٹی کے پیالے

جو مٹی ہوئے

تشنگی کے جوالا کو برفاب کرتے

تو کیا فرق پڑتا؟

مگر یہ جو پانی کا غصہ ہے

گاؤں کہاں ہے؟

کہاں پھول، خوشبو؟

نہ مندر نہ مسجد

نہ ممٹی پہ کوئی کبوتر

نہ کوئی غٹرغوں

فقط شور ہے وحشتِ آب کا

جس نے گاؤں کے گاؤں پچھاڑے ہیں

اور میں اِدھر انگلیاں کان میں ٹھونس کر

بس صدائیں دئیے جا رہا ہوں

مگر دور تک صرف پانی ہے

پانی ہی پانی ہے، لیکن نہیں

آنکھ سوکھی ہوئی ہے


ثاقب ندیم

No comments:

Post a Comment