Friday, 3 March 2023

بے گھروں کے لیے میدان بہت ہوتا ہے

بے گھروں کے لیے میدان بہت ہوتا ہے 

دیکھ لینا بھی میری جان بہت ہوتا ہے 

اول اول تو ضروری ہے محبت لیکن 

عزتِ نفس کا نقصان بہت ہوتا ہے 

پاس رہنے کی حقیقت سے بھی ہم واقف ہیں 

چھوڑ جانے کا امكان بہت ہوتا ہے 

یہ الگ بات ہے تجھ سے نہیں کرتا شکوہ 

ورنہ باتوں پر تیری دھیان بہت ہوتا ہے 

آنکھ کا پردہ کریں کس لیے ہم جانتے ہیں 

دل پر فائز کیا دربان بہت ہوتا ہے 

زخم کھانے کے لیے خوشیاں منانے کے لیے 

سچ کہوں ایک انسان ہی بہت ہوتا ہے


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment