کالج کے نام
آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانا
تھی آٹھ کی وہ ٹائمنگ اور روز لیٹ آنا
اک پیریڈ تھا انگلش کہ ٹیچر سے پہلے پہلے
ٹانگوں کو رکھ کے سر پہ وہ سب کا بھاگ جانا
وہ ساتھ لڑکیوں کے کالج کا گیٹ کُھلنا
جنہیں دیکھ کر دلوں کا اک پل بہک سا جانا
محبوب کے ملن کی ہوتی جو پیاس دل میں
وی پی سے جا کے کرنا کوئی ڈیتھ کا سا بہانہ
کامن تھی لیب جس میں سب لڑکیوں کی خاطر
کنٹیکٹ اور ایڈریس چپکے سے پھینک آنا
وہ آنکھیں حسینوں کو آنکھوں میں ڈال آنکھیں
جُھوٹی تسلیوں سے دل کو یقیں دلانا
اک دن فزکس لیب سے کچھ کاپیوں کی چوری
آنا کلاس میں تو ٹیچر سے مار کھانا
کالج میں کرنی بُھونڈی تو رزلٹ کی وجہ سے
ساحل! سمیت سب کا پیرنٹ سے جھاڑ کھانا
عصمت اللہ ساحل
No comments:
Post a Comment