Friday, 3 March 2023

آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانہ

 کالج کے نام


آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانا

تھی آٹھ کی وہ ٹائمنگ اور روز لیٹ آنا

اک پیریڈ تھا انگلش کہ ٹیچر سے پہلے پہلے

ٹانگوں کو رکھ کے سر پہ وہ سب کا بھاگ جانا

وہ ساتھ لڑکیوں کے کالج کا گیٹ کُھلنا

جنہیں دیکھ کر دلوں کا اک پل بہک سا جانا

محبوب کے ملن کی ہوتی جو پیاس دل میں

وی پی سے جا کے کرنا کوئی ڈیتھ کا سا بہانہ

کامن تھی لیب جس میں سب لڑکیوں کی خاطر

کنٹیکٹ اور ایڈریس چپکے سے پھینک آنا

وہ آنکھیں حسینوں کو آنکھوں میں ڈال آنکھیں

جُھوٹی تسلیوں سے دل کو یقیں دلانا

اک دن فزکس لیب سے کچھ کاپیوں کی چوری

آنا کلاس میں تو ٹیچر سے مار کھانا

کالج میں کرنی بُھونڈی تو رزلٹ کی وجہ سے

ساحل! سمیت سب کا پیرنٹ سے جھاڑ کھانا


عصمت اللہ ساحل 

No comments:

Post a Comment