Friday, 3 March 2023

خیال خام مرا تھا کہ تو کنارہ تھا

خیالِ خام مِرا تھا کہ تو کنارا تھا

کہ تیرے ہاتھ سے اچھا تو بے سہارا تھا

پہاڑ جیسے ہیں ساکت گمان ہے مجھ کو

انہیں بھی مُڑ کے کبھی تو نے ہی پکارا تھا

میں دل کو دل نہ تِرا آستانہ کہتا ہوں

کہ اپنے ہاتھوں سے اس میں تجھے اتارا تھا

تمہارا نام کبھی لب تلک نہیں آیا 

کسی نے پوچھا کہا، زندگی نے مارا تھا

کچھ اس لیے بھی کبھی وقت کو برا نہ کہا

تمہارے ساتھ کبھی ہم نے یہ گزارا تھا

ہزار آئے طلب گار دل کی بستی میں

ہوئی نہ ہم سے خیانت کہ دل تمہارا تھا


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment