Friday, 3 March 2023

کردار جتنے بھی تھے کہانی میں مر گئے

 کردار جتنے بھی تھے کہانی میں مر گئے

میرے تمام شوق جوانی میں مر گئے

ایسی بلا کی حبس، شجر بے نمو ہوئے

پنچھی بھی خوفِ نقل مکانی میں مر گئے

کچھ لوگ بھوک و پیاس میں زندہ رہے مگر

سیلاب ایسا آیا کہ پانی میں مر گئے

پہلے تِرے فراق میں یہ دل لہو ہوا

پھر ہم بھی کارِ اشک فشانی میں مر گئے

کچھ حوصلہ ہمیں بھی ذرا دیجیۓ حسن

ہم لوگ اس بلا کی گرانی میں مر گئے


حسن علوی 

No comments:

Post a Comment