Friday, 3 March 2023

گلوں کے نقش سر آب دیکھنے کے لیے

 گلوں کے نقش سرِ آب دیکھنے کے لیے

ملی تھیں آنکھیں مجھے خواب دیکھنے کے لیے

میں جانتا ہوں کہ محفل میں لوگ آتے ہیں

مِرے تنے ہوئے اعصاب دیکھنے کی لیے

وہ رکھ رکھاؤ عجب تھا کہ خلق آتی تھی

ہمارے ہاں ادب آداب دیکھنے کے لیے

نظر بھی چاہیے اختر، جگر بھی اور دل بھی

کسی کی کشت کو شاداب دیکھنے لیے


اختر عثمان

No comments:

Post a Comment