غمِ زندگی بھی کمال ہے
کبھی آرزو کبھی جستجو
کبھی خوائشیں کبھی حسرتیں
کبھی نیند سی کبھی خواب سی
کبھی یہ صدا کبھی خاموشی
کبھی چیخ سی کبھی سسکیاں
کبھی روگ سی کبھی درد سی
کبھی یہ بہار کبھی خزاں
کبھی برف سی کبھی آگ سی
کبھی نیند سی کبھی جاگ سی
کبھی یہ سفر بس مختصر
کبھی کچھ طویل عذاب سی
کبھی کہکشاں کبھی دھوپ سی
کبھی گرمیوں کی ہے دوپہر
اسے جتنا چاہوں سمجھنا میں
یہ ایک الجھا سوال ہے
جو سلجھ نہ پائے اب کبھی
یہ جستجو ہے جو ساتھ ہے
جو سلجھ گیا تو سکون ہے
جو نہ سلجھا پھر یہ وبال ہے
کبھی تشنہ لب کبھی سیر ہیں
کبھی خوائشیں ہیں بہت سی سنگ
کبھی بے سبب سی اداسیاں
اسے جو بھی چاہے سمجھنا بس
یہ تو صرف الجھا سوال ہے
غمِ زندگی بھی کمال ہے
تسنیم مرزا
No comments:
Post a Comment