Monday, 4 January 2021

سب کھیل فقط وقت بتانے کے لیے تھا

 سب کھیل فقط وقت بِتانے کے لیے تھا

یعنی مِرا دل صرف دُکھانے کے لیے تھا

پھولوں سے اسے خود ہی سجایا تھا ہمی نے

جو رستہ ہمیں چھوڑ کے جانے کے لیے تھا

لڑنا تو اکیلے ہی تھا، مرنا بھی اکیلے

اور یار تو بس سوگ منانے کے لیے تھا

اک شاخ درختوں سے چرا کر ہی بنا تھا

اک تیر جو جنگل پہ چلانے کے لیے تھا

دریا کا کنارا تھا،۔ مگر آب نہیں تھا

جو تھا وہ فقط پیاس بڑھانے کے لیے تھا

جس شعر کو پڑھ کر وہ فدا مجھ پہ ہوا تھا

اس جیسا ہی اک یار منانے کے لیے تھا

دھرتی تھی سجائی ہوئی پہلے ہی خدا نے

سید تُو فقط خلد سے آنے کے لیے تھا


داؤد سید

No comments:

Post a Comment