خون جما تھا اوزاروں پر مٹی تھی گل دستوں پر
میں نے دیکھا رات کا سایا ٹوٹے پھوٹے حرفوں پر
کوئی تو تھا جو دیکھ رہا تھا رات گئے تک کھڑکی سے
کوئی تو تھا جو چیخ رہا تھا رات گئے تک شیشوں پر
جانے کیوں اس آنکھ نے مجھ کو حشر دکھایا اور میں نے
بِن پٹڑی کے ریل چلا دی اپنی کچی غزلوں پر
عام فہم انسان کو اس نے شاعر کیسے کہہ ڈالا
شاید تب ہی بھڑک رہے ہیں شعلے ان اخباروں پر
جو گزری ہے دل پر میرے، کیسے تجھ کو بتلاؤں
جو گزری ہے بعد میں تیرے سوچوں تف ہے سوچوں پر
سات سمندر پار محبت کرنے والے زندہ ہیں
سات سمندر پار لگاؤں کشتی کیسے شعلوں پر
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment