Monday, 4 January 2021

خون جما تھا اوزاروں پر مٹی تھی گلدستوں پر

 خون جما تھا اوزاروں پر مٹی تھی گل دستوں پر

میں نے دیکھا رات کا سایا ٹوٹے پھوٹے حرفوں پر

کوئی تو تھا جو دیکھ رہا تھا رات گئے تک کھڑکی سے

کوئی تو تھا جو چیخ رہا تھا رات گئے تک شیشوں پر

جانے کیوں اس آنکھ نے مجھ کو حشر دکھایا اور میں نے

بِن پٹڑی کے ریل چلا دی اپنی کچی غزلوں پر

عام فہم انسان کو اس نے شاعر کیسے کہہ ڈالا

شاید تب ہی بھڑک رہے ہیں شعلے ان اخباروں پر

جو گزری ہے دل پر میرے، کیسے تجھ کو بتلاؤں

جو گزری ہے بعد میں تیرے سوچوں تف ہے سوچوں پر

سات سمندر پار محبت کرنے والے زندہ ہیں

سات سمندر پار لگاؤں کشتی کیسے شعلوں پر


ندیم ملک

No comments:

Post a Comment