ہوں کروٹوں میں کبھی اور بند آنکھوں میں
میں اب تلک ہوں تِرے خواب کے جزیروں میں
نہ کوئی صبح ہے میری نہ کوئی شام مِری
ہر ایک پَل ہے تِرے خوشنما خیالوں میں
یہ انتہا ہے کہ تجھ پہ یقین ہے مجھ کو
میں تیری بات کو لکھتی ہوں اپنے لفظوں میں
نہ میں فراق گُزیدہ نہ کوئی وصل کی بات
کہ رک گیا کوئی لمحہ سیاہ جھیلوں میں
حسیں چراغ کو بُجھتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ کیسا خوف کا عالم ہے ان نگاہوں میں
ہماری راہ میں حائل ہیں کتنی دیواریں
سمجھ گیا ہے مِرا دل یہ چند لمحوں میں
وفا کی بات چِھڑے گی تو فیصلہ ہو گا
کہ کِس نے درد سہا ہے طویل راتوں میں
ہر ایک شے سے مجھے اس قدر جو الفت ہے
تمہارا عکس ہے شاید تمام رنگوں میں
منزہ سحر
No comments:
Post a Comment