پھینک دیا ہے تجھ میں اپنا سارا درد سمندر سن
لوٹ آئی ہوں واپس گھر میں کوچہ گرد سمندر سن
جتنے ٹیڑھے رستے گھر کی راہ میں تھے ہموار کیے
اور اب ٹھیک میں کرلوں گی چوکھٹ، بے درد سمندر سن
تُو نے پیاسا رکھا، پانی کے دو قطرے تھے بھی کیا؟
آنکھ میں لے آئی ہوں اب میں چھاگل سرد سمندر سن
اور بھی ہوں گے ڈوبنے والے عشق میں جو مرجاتے ہیں
دنیا میں اک وہ ہی نہیں تھا پاگل مرد سمندر سن
تُند روی میں میرے پاؤں تجھ پر پڑنے والے ہیں
اس گرداب میں شامل ہو گی میری گرد سمندر سن
تشنہ کام نہیں ہوں اتنی ، پیاس تو میں سہہ سکتی ہوں
نیلی آنکھیں رکھنے والے پیلے زرد سمندر سن
مجھ پر کوئی حرف صحیغہ آج اترنے والا ہے
ذہن و دل میں آمد ہے یا پھر آورد سمندر سن
اتنا ظرف تو میرا بھی ہے سب کا دل رکھ سکتی ہوں
دل افروز بہت ہیں مجھ کو اہلِ درد سمندر سن
افروز رضوی
No comments:
Post a Comment