یہ نہ سوچیں کہ کیا دیجئے
ہاتھ اٹھا کر دعا دیجئے
آتشِ دل بجھا دیجئے
یا پھر اس کو ہوا دیجیئے
مجھ کو کشتی عطا کی تو پھر
ساتھ اک ناخدا دیجئے
گر چہ میرے نہیں ہیں پسند
شعر اپنے سنا دیجئے
مجھ میں اڑنے کا ہے حوصلہ
آپ بس، پر لگا دیجئے
اپنی تعریف کر لے گا خود
اس کو بس آئینہ دیجئے
جرم کرنے تو دیجئے کوئی
پھر جو چاہے سزا دیجئے
آپ اس پُر فتن دور میں
امن کی پھر فضا دیجئے
لیجئے پھر بھروسہ کِیا
آپ پھر سے دغا دیجئے
خود ہی یاسین مر جائے گا
اس کو جینے زرا دیجئے
یاسین باوزیر
No comments:
Post a Comment