Sunday, 12 December 2021

اک شخص دل میں رہ کے بھی دلبر نہ بن سکا

 اک شخص دل میں رہ کے بھی دلبر نہ بن سکا

مئے جس میں پیار کی ہو وہ ساغر نہ بن سکا

پھر یوں ہوا کہ عشق کی بازی پلٹ گئی

جب میں مِرے رقیب سے بہتر نہ بن سکا

پیوست ہو جگر میں جو مثلِ نگاہِ یار

ایسا تو آج تک کوئی خنجر نہ بن سکا

ڈگری تو تھی مگر انہیں رشوت نہ دے سکا

مزدور بن گیا ہوں، میں افسر نہ بن سکا

بہتر وہ دوسروں سے بنے بھی تو کس طرح

جو شخص اپنے آپ سے بہتر نہ بن سکا

کیکر یہ چاہتا ہے کہ بن جائے وہ گلاب

شکوہ گلاب کو ہے؛ وہ کیکر نہ بن سکا

یاسین! شاعری کے لیے چاہیۓ ہنر

ہر عشق کرنے والا سخنور نہ بن سکا


یاسین باوزیر

No comments:

Post a Comment