کچھ اس طرح سے تمہاری میں بات کاٹوں گا
بچھڑ کے تم سے اکیلے حیات کاٹوں گا
تمہارا نام نہ بدنام ہونے دوں گا کبھی
کروں گا چاک گریباں نہ ہاتھ کاٹوں گا
تم اپنے چاہنے والوں میں شاد شاد رہو
تمام عمر میں اب غم کے ساتھ کاٹوں گا
یہاں وہاں مِری آوارگی پھرائے مجھے
پتہ نہیں ہے کہاں اب یہ رات کاٹوں گا
بدن سے روح نکلنے میں ہو گی جب تکلیف
وہ لمحہ کیسے میں وقتِ ممات کاٹوں گا
پہاڑ کاٹنے والے تو کب کا کاٹ چکے
تِرے بغیر میں کوہِ حیات کاٹوں گا
مجھے پکارنے والے نہیں رہے صابر
سو اس کے شہر میں دن بے ثبات کاٹوں گا
صابر عثمانی
No comments:
Post a Comment