Sunday, 12 December 2021

کچھ اس طرح سے تمہاری میں بات کاٹوں گا

 کچھ اس طرح سے تمہاری میں بات کاٹوں گا

بچھڑ کے تم سے اکیلے حیات کاٹوں گا

تمہارا نام نہ بدنام ہونے دوں گا کبھی

کروں گا چاک گریباں نہ ہاتھ کاٹوں گا

تم اپنے چاہنے والوں میں شاد شاد رہو

تمام عمر میں اب غم کے ساتھ کاٹوں گا

یہاں وہاں مِری آوارگی پھرائے مجھے

پتہ نہیں ہے کہاں اب یہ رات کاٹوں گا

بدن سے روح نکلنے میں ہو گی جب تکلیف

وہ لمحہ کیسے میں وقتِ ممات کاٹوں گا

پہاڑ کاٹنے والے تو کب کا کاٹ چکے

تِرے بغیر میں کوہِ حیات کاٹوں گا

مجھے پکارنے والے نہیں رہے صابر

سو اس کے شہر میں دن بے ثبات کاٹوں گا


صابر عثمانی

No comments:

Post a Comment