جو گرتا ہے لیکن سنبھلتا نہیں ہے
تو ایسے کے سنگ کوئی چلتا نہیں ہے
میں دستک تو ہر روز دیتا ہوں، لیکن
یہ دروازہ قسمت کا کھلتا نہیں ہے
ترستی تھی آنکھیں تمہیں دیکھ نے کو
مگر دیکھ کر دل مچلتا نہیں ہے
بدلتے ہیں جو رنگ گرگٹ صفت ہیں
جو ہو دوست سچا، بدلتا نہیں ہے
لگا کر وہ دل غیر سے خوش ہے لیکن
یہ غم میرے دل سے نکلتا نہیں ہے
نہیں خاص مجھ میں کوئی بات یاسین
مجھے دیکھ کر کوئی جلتا نہیں ہے
یاسین باوزیر
No comments:
Post a Comment