Friday, 7 January 2022

جو گرتا ہے لیکن سنبھلتا نہیں ہے

 جو گرتا ہے لیکن سنبھلتا نہیں ہے

تو ایسے کے سنگ کوئی چلتا نہیں ہے 

میں دستک تو ہر روز دیتا ہوں، لیکن 

یہ دروازہ قسمت کا کھلتا نہیں ہے 

ترستی تھی آنکھیں تمہیں دیکھ نے کو 

مگر دیکھ کر دل مچلتا نہیں ہے  

بدلتے ہیں جو رنگ گرگٹ صفت ہیں 

جو ہو دوست سچا، بدلتا نہیں ہے  

لگا کر وہ دل غیر سے خوش ہے لیکن 

یہ غم میرے دل سے نکلتا نہیں ہے 

نہیں خاص مجھ میں کوئی بات یاسین 

مجھے دیکھ کر کوئی جلتا نہیں ہے 


یاسین باوزیر

No comments:

Post a Comment