Saturday, 10 April 2021

غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے

 غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے

حیف اس آنکھ پر جو پُر نم ہے

دل کی آواز لاکھ مدھم ہے

دل کی آواز میں بڑا دم ہے

زندگی میں سکون کے طالب

زندگی خود ہی مستقل غم ہے

ان کے جاتے ہی یہ ہوا محسوس

جیسے تاروں میں روشنی کم ہے

چین ہے ترک آرزو کے بعد

آرزوؤں کا نام ہی غم ہے

ہر نفس مخزن الم ہے رئیس

شکر ہے عمر آدمی کم ہے


رئیس نیازی

No comments:

Post a Comment