جسم کا روح سے رابطہ ختم شد
آگے دیوار ہے، راستہ ختم شد
ہجر یادوں کی کب تک اسیری بنے
کیجیے درد کا سلسلہ ختم شد
کون کیسے مَرا ہم کو مطلب ہے کیا
آؤ گھر کو چلیں، حادثہ ختم شد
کیسے پل بھر میں رب سے ملاقی ہوئے
ایسے نکتے پہ ہے فلسفہ ختم شد
عشق اور جنگ میں کوئی حد ہے کہاں
میں نہیں مانتا ضابطہ ختم شد
سر جھکایا گیا اس کے دربار میں
جو مجازی کا تھا مسئلہ ختم شد
ماجد جہانگیر مرزا
No comments:
Post a Comment