اپنی تنہائیوں کے غار میں ہوں
ایسا لگتا ہے میں مزار میں ہوں
تُو نے پوچھا کبھی نہ حال مِرا
مدتوں سے تِرے دیار میں ہوں
تیری خوشبو ہے میری سانسوں میں
جب سے میں تیری رہگزار میں ہوں
مجھ پہ اپنا ہے اختیار کہاں
میں تو بس تیرے اختیار میں ہوں
مجھ کو منزل سے آشنا کر دے
میں تِری راہ کے غبار میں ہوں
جب سے تیری نگاہ لطف اٹھی
چاند تاروں کی میں قطار میں ہوں
مجھ کو دنیا سے کیا غرض افضل
میں تو ڈوبا خیال یار میں ہوں
افضل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment