یوں چاہتوں میں ہم کو سجانے پڑیں گے پھول
قدموں میں تیرے لا کے بچھانے پڑیں گے پھول
آنکھوں کے راستے وہ مِرے دل میں آئے گا
خوابوں کی وادیوں میں اُگانے پڑیں گے پھول
سوچا نہیں تھا ہم نے کہ خوشیوں کے واسطے
کانٹوں کی گود سے بھی اُٹھانے پڑیں گے پھول
لوگوں کا جب مزاج ہی پتھر کا ہو گیا
پھر پتھروں کے ہم کو بنانے پڑیں گے پھول
ہم نے سنا ہے ملنے کو آئے گا وہ ضرور
خوشیوں کی ہر ڈگر پر کھِلانے پڑیں گے پھول
ایسا نہ ہو کہ کِھلنے سے پہلے سُوکھ جائیں
دُشمن کی بد نظر سے بچانے پڑیں گے پھول
میں نے اک بہار کی خواہش میں جان دی
اب میری قبر پر بھی بِچھانے پڑیں گے پھول
اس تیرگی سے اب تو مِرا دل اداس ہے
اے رات سحر کے کِھلانے پڑیں گے پھول
سبینہ سحر
No comments:
Post a Comment