Saturday, 10 April 2021

یوں چاہتوں میں ہم کو سجانے پڑیں گے پھول

 یوں چاہتوں میں ہم کو سجانے پڑیں گے پھول

قدموں میں تیرے لا کے بچھانے پڑیں گے پھول

آنکھوں کے راستے وہ مِرے دل میں آئے گا

خوابوں کی وادیوں میں اُگانے پڑیں گے پھول

سوچا نہیں تھا ہم نے کہ خوشیوں کے واسطے

کانٹوں کی گود سے بھی اُٹھانے پڑیں گے پھول

لوگوں کا جب مزاج ہی پتھر کا ہو گیا

پھر پتھروں کے ہم کو بنانے پڑیں گے پھول

ہم نے سنا ہے ملنے کو آئے گا وہ ضرور

خوشیوں کی ہر ڈگر پر کھِلانے پڑیں گے پھول

ایسا نہ ہو کہ کِھلنے سے پہلے سُوکھ جائیں

دُشمن کی بد نظر سے بچانے پڑیں گے پھول

میں نے اک بہار کی خواہش میں جان دی

اب میری قبر پر بھی بِچھانے پڑیں گے پھول

اس تیرگی سے اب تو مِرا دل اداس ہے

اے رات سحر کے کِھلانے پڑیں گے پھول


سبینہ سحر

No comments:

Post a Comment