Tuesday, 23 March 2021

سیاست سے وفا کرتی رہی تقدیر بسم اللہ

 سیاست سے وفا کرتی رہی تقدیر بسم اللہ

سلگتا جا رہا ہے سر بسر کشمیر بسم اللہ

نہ جانے کون سی آتش بھری ہے اشعاروں میں

سلگتی جا رہی ہے شوخیٔ تحریر بسم اللہ

نمائش ہو رہی ہے اب ہمارے دل کے زخموں میں

کریں گے ہم شمارِ نالۂ شب گیر بسم اللہ

کبھی موسم یہاں بہکا، کبھی ساون یہاں لہکا

کبھی بادِ بہادری پر لگی تعزیر بسم اللہ

صبا کا ہاتھ پکڑا خار نے گلشن میں صبح دم

بہاروں میں مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ

کبھی میرے جگر کا درد اٹھے عادل تیرے دل میں

کبھی ہو جائے دردِ دل کی بھی توقیر بسم اللہ


عادل اشرف

No comments:

Post a Comment