سیاست سے وفا کرتی رہی تقدیر بسم اللہ
سلگتا جا رہا ہے سر بسر کشمیر بسم اللہ
نہ جانے کون سی آتش بھری ہے اشعاروں میں
سلگتی جا رہی ہے شوخیٔ تحریر بسم اللہ
نمائش ہو رہی ہے اب ہمارے دل کے زخموں میں
کریں گے ہم شمارِ نالۂ شب گیر بسم اللہ
کبھی موسم یہاں بہکا، کبھی ساون یہاں لہکا
کبھی بادِ بہادری پر لگی تعزیر بسم اللہ
صبا کا ہاتھ پکڑا خار نے گلشن میں صبح دم
بہاروں میں مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ
کبھی میرے جگر کا درد اٹھے عادل تیرے دل میں
کبھی ہو جائے دردِ دل کی بھی توقیر بسم اللہ
عادل اشرف
No comments:
Post a Comment