عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
اللہ رے، یہ حسنِ سفر کیسا لگے گا
معراج کی منزل پہ بشر کیسا لگے گا
یوں نخلِ تمنا کا ثمر کیسا لگے گا
سجدے ہوں تِرے در پہ تو سر کیسا لگے گا
جب لوٹ کے آؤں گا مدینے کے سفر سے
میں کیسا لگوں گا، مِرا گھر کیسا لگے گا
اک صاحبِ والیل کی فرقت میں شبِ غم
گِرتا ہوا دامن پہ گُہر کیسا لگے گا
جس ہاتھ سے لکھوں گا محمدﷺ کا قصیدہ
اس ہاتھ میں جبریل کا پر کیسا لگے گا
بیمارِ الم آپ کا اے جانِ مسیحا
جب ہو گی شبِ غم کی سحر کیسا لگے گا
چمکا ہے ہلال آج جو نعتوں کے افق پر
کل ہو گا جو یہ رشکِ قمر کیسا لگے گا
ہلال جعفری
No comments:
Post a Comment