کاش تمہیں ہی مانگا ہوتا
ان خلاؤں سے پار
دور محبت کی فضاؤں میں
ایفل ٹاور کے نیچے
جب برف گرتی ہے
تو محبت کرنے والے دل
ایک دوسرے میں دھڑکتے ہیں
ہزاروں وعدے کرتے ہیں
ایک دوسرے کے سنگ
ہمیشگی کی تمنا کرتے ہیں
اس لمحے بھی ہم نے
کچھ نہیں مانگا تھا
اب تنہائی میں سوچتی ہوں
کاش کچھ مانگا ہوتا
کاش تمہیں ہی مانگا ہوتا
بس تمہیں مانگا ہوتا
بشریٰ ایوب خان
No comments:
Post a Comment