Saturday, 8 January 2022

کس کو معلوم تھا اک روز کہ یوں ہونا تھا

 کس کو معلوم تھا اک روز کہ یوں ہونا تھا

مستقل ضبط کا انجام جنوں ہونا تھا

عمر بھر زیست کے کاغذ پہ مشقت لکھنا

یعنی اک شخص کا اس طرح بھی خوں ہونا تھا

بے حسی ملتی مجھے شہر میں جینے کے لیے

یا مِرا دستِ ہنر،۔ دستِ فسوں ہونا تھا

فاصلہ قرب کی ساعت میں سمٹ سکتا تھا

سر جھکا تھا تو تِرا دل بھی نگوں ہونا تھا

بنتے رہنا تھا رئیس آس کے تانے بانے

کچھ تو جینے کے لیے وجہِ سکوں ہونا تھا


رئیس الدین

No comments:

Post a Comment