میں تمہاری دیکھی ہوئی اچھی دنیا میں نہیں رہتی
میں وہ کالک ہوں جسے چہروں پر تھوپا گیا
میں خزاں کا وہ پھول ہوں جس کی پتیوں پر بہار کبھی نہ آئی
میرے خوابوں میں تیرا ہاتھ ہمیشہ چھُوٹ گیا
میرا ادھورا پن تیرے مقابل کبھی نہ آ سکا
وہ آہ جو سینے سے نکلی تھی
بربط، جو ہونٹوں سے بجی تھی
اس کا ساز ہمیشہ نمناک رہا
گوری راتوں کو روتی تھی اور یہی کہتی جاتی تھی
”محبت کے سبھی روپ جھوٹے، نام کے ہیں“
شام کا پہلو میرے بغیر بھی آباد رہتا ہے
آسمان کے تارے جدائی میں بھی چمکتے ہیں
بانسری کی دُھنیں سدا طربیہ نہیں رہتیں
چینسر کی لِیلا روٹھے بھی تو، بیوی نہیں رہتی
بشریٰ ایوب خان
No comments:
Post a Comment