Thursday, 25 March 2021

میں وہ کالک ہوں جسے چہروں پر تھوپا گیا

 میں تمہاری دیکھی ہوئی اچھی دنیا میں نہیں رہتی


میں وہ کالک ہوں جسے چہروں پر تھوپا گیا

میں خزاں کا وہ پھول ہوں جس کی پتیوں پر بہار کبھی نہ آئی

میرے خوابوں میں تیرا ہاتھ ہمیشہ چھُوٹ گیا

میرا ادھورا پن تیرے مقابل کبھی نہ آ سکا

وہ آہ جو سینے سے نکلی تھی

بربط، جو ہونٹوں سے بجی تھی

اس کا ساز ہمیشہ نمناک رہا

گوری راتوں کو روتی تھی اور یہی کہتی جاتی تھی

محبت کے سبھی روپ جھوٹے، نام کے ہیں

شام کا پہلو میرے بغیر بھی آباد رہتا ہے

آسمان کے تارے جدائی میں بھی چمکتے ہیں

بانسری کی دُھنیں سدا طربیہ نہیں رہتیں

چینسر کی لِیلا روٹھے بھی تو، بیوی نہیں رہتی


بشریٰ ایوب خان

No comments:

Post a Comment