Thursday, 25 March 2021

جہاں زاد کتنے فسانے بتاؤں

 جہاں زاد

کتنے فسانے بتاؤں

میں کتنے فسانے بتاؤں محبت کے رستے میں دل پر جو گزرے

فسانے جو تنہا دلی کی اذیت سے لبریز تھے

اور ہیں

اور ابد تک رہیں گے

اذیت، جہاں زاد 

اذیت کا معنی فقط لفظ ہو گا تِرے کاغذوں میں

مگر اس کے معنی کی اصلی حدوں کو تو وہ جانتا ہے

کہ جس نے اسے اپنے ہاتھوں کی افسردہ سطروں میں پایا

مگر اس اذیت سے بہتی ہوئی آہ لب پر نہ لایا

فقط مسکرایا

”فقط مسکرایا کہ “اس کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے

مگر اس اذیت سے بہتی ہوئی آہ

اس کی نگاہوں کی ہنسنے کی کوشش سے رِستی رہی

اس کے ہونٹوں کی ان دیکھی ہلکی سی جنبش سے رِستی رہی

پر جہاں والوں نے اس کو دیکھا نہیں

تُو نے بھی اس کو دیکھا نہیں

اس لیے کہ جہاں زاد ہے تُو

تجھے اب میں ہنسنے کی کوشش کے

ہونٹوں کی جنبش کے

کتنے فسانے بتاؤں

جہاں زاد

کتنے فسانے؟


ارسلان عباس

No comments:

Post a Comment