جہاں زاد
کتنے فسانے بتاؤں
میں کتنے فسانے بتاؤں محبت کے رستے میں دل پر جو گزرے
فسانے جو تنہا دلی کی اذیت سے لبریز تھے
اور ہیں
اور ابد تک رہیں گے
اذیت، جہاں زاد
اذیت کا معنی فقط لفظ ہو گا تِرے کاغذوں میں
مگر اس کے معنی کی اصلی حدوں کو تو وہ جانتا ہے
کہ جس نے اسے اپنے ہاتھوں کی افسردہ سطروں میں پایا
مگر اس اذیت سے بہتی ہوئی آہ لب پر نہ لایا
فقط مسکرایا
”فقط مسکرایا کہ “اس کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے
مگر اس اذیت سے بہتی ہوئی آہ
اس کی نگاہوں کی ہنسنے کی کوشش سے رِستی رہی
اس کے ہونٹوں کی ان دیکھی ہلکی سی جنبش سے رِستی رہی
پر جہاں والوں نے اس کو دیکھا نہیں
تُو نے بھی اس کو دیکھا نہیں
اس لیے کہ جہاں زاد ہے تُو
تجھے اب میں ہنسنے کی کوشش کے
ہونٹوں کی جنبش کے
کتنے فسانے بتاؤں
جہاں زاد
کتنے فسانے؟
ارسلان عباس
No comments:
Post a Comment