Wednesday, 14 April 2021

یوں تری یاد میں کھو گئے

یوں تِری یاد میں کھو گئے

ہم تھے کیا اور کیا ہو گئے

اک نئی صبح کا خواب ہم

دیکھتے دیکھتے سو گئے

شہد کی فصل سے کیا گِلہ

زہر تو آپ ہم بو گئے

آخرِ شب مِرے اشکِ غم

داغِ قلب و جگر دھو گئے

کتنے فاخر مِرے سامنے

کیا سے کیا، کیا سے کیا ہو گئے


فاخر جلالپوری

No comments:

Post a Comment