Wednesday, 14 April 2021

کچھ خیال آتے ہیں اور آ کے چلے جاتے ہیں

 کچھ خیال آتے ہیں اور آ کے چلے جاتے ہیں

آئینہ سا مجھے دکھلا کے چلے جاتے ہیں

ساتھ مر کے بھی رہا میرے غم تنہائی

ورنہ احباب تو دفنا کے چلے جاتے ہیں

میری تنہائی کے ساتھی مِرے ساغر مینا

اب یہ بھی مجھ کو بہکا کے چلے جاتے ہیں

کتنی بدنام ہے بازارِ محبت میں وفا

لوگ اس چیز کے پاس آ کے چلے جاتے ہیں

جن کو ہم اپنا سمجھتے تھے وہی ہم کو صبا

دیکھ لیتے ہیں تو کترا کے چلے جاتے ہیں


شانتی صبا

No comments:

Post a Comment