مدت کے بعد کان پڑی بات پیر کی
جگجیت گا رہے تھے غزل رات میر کی
لگتا نہيں کہ اِن میں سمندر ہے موجزن
آنکھیں تو دیکھیے ذرا اس ماہی گیر کی
ہم نے تو اس کے جسم پہ نقطے لگا دئیے
اب دیکھیے کہ شکل بنے کیا لکیر کی
پھر کامیاب کوئی بھی سازش نہيں ہوئی
جب دل کی سلطنت میں محبت سفیر کی
اس نے بھی رات خواب میں دیکھا تھا اِک محل
پھر بادشاہ کو لے اُڑی بیٹی فقیر کی
عمران عامی
No comments:
Post a Comment