Wednesday, 14 April 2021

مدت کے بعد کان پڑی بات پیر کی

 مدت کے بعد کان پڑی بات پیر کی

جگجیت گا رہے تھے غزل رات میر کی

لگتا نہيں کہ اِن میں سمندر ہے موجزن

آنکھیں تو دیکھیے ذرا اس ماہی گیر کی

ہم نے تو اس کے جسم پہ نقطے لگا دئیے

اب دیکھیے کہ شکل بنے کیا لکیر کی

پھر کامیاب کوئی بھی سازش نہيں ہوئی

جب دل کی سلطنت میں محبت سفیر کی

اس نے بھی رات خواب میں دیکھا تھا اِک محل

پھر بادشاہ کو لے اُڑی بیٹی فقیر کی


عمران عامی

No comments:

Post a Comment