Wednesday, 14 April 2021

یہ قصۂ غم دل ہے تو بانکپن سے چلے

 یہ قصۂ غم دل ہے تو بانکپن سے چلے

کسی نگاہ پہ ٹھہرے کسی بدن سے چلے

نہ جانے کس کے کرم سے کھلے کلی دل کی

سموم دشت سے اٹھے صبا چمن سے چلے

وہ آئے دل میں تو یوں جیسے شام کا تارہ

مثال ماہ ستاروں کی انجمن سے چلے

فسانے چاک گریباں کے پڑ گئے پھیکے

جنوں کی بات کبھی تیرے پیرہن سے چلے

ہجوم صبح کی تنہائیوں میں ڈوب گئے

وہ قافلے جو اندھیروں کی انجمن سے چلے


انور معظم

No comments:

Post a Comment