سن کر بیانِ درد کلیجہ دہل نہ جائے
دنیا سے ڈر رہے تھے کہ دنیا بدل نہ جائے
ہر محفل نشاط سے پھرتا ہوں دور دور
کیا احتیاط ہے کہ تِرا غم بہل نہ جائے
تو آج تک تو ہے مِری نظروں میں ہو بہو
ہیں طاق آرزو پہ کھلونے سجے ہوئے
مایوس آرزو کی طبیعت مچل نہ جائے
تشنہ لبی کہیں مجھے غرقاب کر نہ دے
تھوڑی سی روشنی کیلئے گھر ہی جل نہ جائے
اک خوف ہے کہ منزل نسیاں قریب ہے
تو وادئ خیال سے آگے نکل نہ جائے
روؤں کہاں کہ راحت خلوت نہیں ہے شاذ
ہنسنے پہ بھی یہ شرط کہ آنسو نکل نہ جائے
شاذ تمکنت
No comments:
Post a Comment