Friday, 4 September 2020

میں روشنی کا مغنی کرن کرن کا سفیر

سفیر

میں روشنی کا مغنی کرن کرن کا سفیر
وہ سیلِ مہ سے کہ رودِ شرار سے آئے
وہ جامِ مے سے کہ چشمِ نگار سے آئے
وہ موجِ باد سے یا آبشار سے آئے
وہ دستِ گل سے کہ پائے فگار سے آئے
وہ لوحِ جاں سے کہ طاقِ مزار سے آئے
وہ قصرِ خواب سے یا خاک زار سے آئے
وہ برگِ سبز سے یا چوبِ دار سے آئے
جہاں کہیں ہو دلِ داغدار کی تنویر
وہیں کھلیں مِری بانہیں، وہیں کٹے زنجیر

شکیب جلالی

No comments:

Post a Comment