Thursday, 7 April 2022

عشق کے غمگسار ہیں ہم لوگ

 عشق کے غمگسار ہیں ہم لوگ

حسن کے رازدار ہیں ہم لوگ

دست قدرت کو ناز ہے ہم پر

وقت کے شاہکار ہیں ہم لوگ

ہم سے قائم ہے گلستاں کا بھرم

آبروئے بہار ہیں ہم لوگ

منزلیں ہیں ہمارے قدموں میں

حاصل رہگزار ہیں ہم لوگ

ہم سے تنظیم ہے زمانے کی

محور روزگار ہیں ہم لوگ

ہم جو چاہیں گے اب وہی ہوگا

صاحب اختیار ہیں ہم لوگ

ہم سے روشن ہے کائنات شکیب

اصل لیل و نہار ہیں ہم لوگ


شکیب جلالی

No comments:

Post a Comment