ملاوٹ کی تجارت ہے
ریا کاروں کی حکمت ہے
یہ ہے مٹی میں انساں کی
بدلنا اس کی فطرت ہے
یہ مطلب کا جہاں پیارے
تو پھر کیا شے محبت ہے
سفر یہ زیست کا مشکل
خزاں جیسی مسافت ہے
گنہ گاروں کی دنیا میں
عبادت بس عبارت ہے
کہیں ڈھونڈے نہیں ملتی
وہ نادر شے اخوت ہے
مِرے پیچھے مِری غیبت
زمانے کی تو عادت ہے
حمیرا یہ مِری سنگی
مجھے اردو سے چاہت ہے
حمیرا قریشی
No comments:
Post a Comment