Thursday, 7 April 2022

ملاوٹ کی تجارت ہے ریا کاروں کی حکمت ہے

 ملاوٹ کی تجارت ہے 

ریا کاروں کی حکمت ہے 

یہ ہے مٹی میں انساں کی 

بدلنا اس کی فطرت ہے 

یہ مطلب کا جہاں پیارے 

تو پھر کیا شے محبت ہے 

سفر یہ زیست کا مشکل 

خزاں جیسی مسافت ہے 

گنہ گاروں کی دنیا میں 

عبادت بس عبارت ہے 

کہیں ڈھونڈے نہیں ملتی 

وہ نادر شے اخوت ہے 

مِرے پیچھے مِری غیبت 

زمانے کی تو عادت ہے 

حمیرا یہ مِری سنگی 

مجھے اردو سے چاہت ہے 


حمیرا قریشی 

No comments:

Post a Comment